"کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (10)

cartoon1-12-1491968493

 

تحریر: امام بخش

یہ گیارہ قسطوں پر مشتمل آرٹیکل کی دسویں قسط ہے۔  پہلی، دوسری، تیسری، چوتھی،
پانچویں، چھٹی، ساتویں، آٹھویں، نویں اور گیارہویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں۔

جب دوسری جنگِ عظیم میں برطانوی وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل کو اْس کے سپہ سالار نے بتایا کہ ہم شکست کھانے والے ہیں اور جاپانی فوجیں لندن کا محاصرہ کر چکی ہیں تو چرچل نے صرف ایک سوال کیا، ’’کیا ہماری عدالتیں ابھی تک انصاف کر رہی ہیں؟ جواب ملا، جی ہاں! تو چرچل نے کہا، ’’پھر ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا‘‘۔ تاریخ گواہ ہے کہ ناصرف جاپانی فوجوں کو پسپا ہونا پڑا بلکہ دوسری جنگِ عظیم میں چرچل اور اس کے اتحادی بھی کامیاب ہوئے۔

انصاف قوموں کی زندگی کو توانا رکھتا ہے۔ بے شک اِس حقیقت میں کوئی شُبہ نہیں لیکن اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کو دیکھیں تو معاملہ اِس سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہے۔ آپ کا ارشاد ہے، ’’کوئی معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے لیکن ظلم پر نہیں‘‘۔ کوئی معاشرہ ظلم پر قائم نہیں رہ سکتا چنانچہ نا انصافی کی وجہ سے تو سِرے سے قوم ہی نہیں رہتی پھر قومی زندگی کی توانائی کا سوال کیا باقی رہ جاتا ہے؟

عظیم چینی فلسفی کنفیوشس سے کسی نے پوچھا کہ اگر ایک قوم کے پاس تین چیزیں انصاف، معیشت اور دفاع ہوں اور بوجہ مجبوری اِن تین چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو ترک کرنا مقصود ہو تو کس چیز کو ترک کیا جائے؟ کنفیوشس نے جواب دیا۔ دفاع کو ترک کر دو۔ سوال کرنے والے نے پھر پوچھا اگر باقی ماندہ دو چیزوں یعنی انصاف اور معیشت میں سے ایک کو ترک کرنا لازمی ہو تو کیا کیا جائے؟ کنفیوشس نے جواب دیا، معیشت کو چھوڑ دو۔ اس پر سوال کرنے والے نے حیرت سے کہا۔ معیشت اور دفاع کو ترک کیا تو قوم بھوکوں مر جائے گی اور دشمن حملہ کر دیں گے۔ تب کنفیوشس نے جواب دیا، نہیں! ایسا نہیں ہو گا بلکہ انصاف کی وجہ سے اْس قوم کو اپنی حکومت پر اعتماد ہو گا اور لوگ معیشت اور دفاع کا حل اِس طرح کریں گے کہ پیٹ پر پتھر باندھ کر دشمن کا راستہ روک لیں گے۔ اگر ہمیں کنفیوشس کے نقطہ نظر پر یقین نہیں ہے تو غزوہ اُحد کا عملی ثبوت دیکھ لیں کہ کس طرح عوام نے اپنی ریاست کو بچانے کے لیے پیٹ پر پتھر باندھ کر دشمن کا راستہ روک دیا تھا۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انصاف جس قوم میں ناپید ہو جائے تو وہ کسی بھی شعبے میں ترقی نہیں کر سکتی۔ آج وطنِ عزیز کی ہر شعبے میں زوال پذیری کی بنیادی وجہ عدل و انصاف کا نہ ہونا ہے۔ ہماری عدلیہ کی پوری تاریخ جسٹس منیر سے لے کر آج تک سیاہ ترین ہے۔ وطن عزیز میں جیسے ہی ایک آئین شکن مارشل لاء لگاتا ہے، ججوں کی بھاری اکثریت باجماعت ہو کر پی سی او کے تحت حلف اُٹھا لیتی ہے۔ جب تک آئین شکن اقتدار میں رہتا ہے، اُس کے سامنے اِن "صادق و امین فرشتوں” کا کردار فقط سٹینو گرافرز کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ آئین اور پاکستانی قوم کی توہین کرنے میں یہ بدبو دار کردار کے مالک لوگ پوری طرح آئین شکن کے ہمنوا ہوتے ہیں۔ یہ آمر کے سب غیر آئینی اقدامات کی جھٹ سے توثیق کر دیتے ہیں۔ یہ اس حد تک بھی چلے جاتے ہیں کہ فردِ واحد مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کو تین سال کے لیے آئین میں تبدیلی تک کا اختیار تک دے دیتے ہیں۔ مگر یہ سویلینز کے لیے ایسے فرعون ہیں کہ اِن کا ناپسندیدہ شخص اگر اُونچی آواز میں سانس بھی لے لے تو اِنتہائی ڈھٹائی سے توہینِ عدالت کی تلوار نکال لیتے ہیں۔ ایک منتخب وزیرِ اعظم کو اپنے غیر آئینی اِقدام کی حکم عدولی پر تیس سینکنڈ کی سزا سنا کر گھر تک بھیج دیتے ہیں۔

اب اگر ہم ونسٹن چرچل، کنفیوشس اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اقوال کے ساتھ ساتھ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سربراہی میں غزوہ اُحد میں عملی ثبوت دینے والے صحابہ اکرامؓ کے کردار کی روشنی میں دیکھیں تو ہم خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان کی تباہی و بربادی میں عدلیہ کا کتنا بھرپور کردار ہے۔

آصف علی زرداری کے خلاف بے بُنیاد جُھوٹے مقدمات کے سلسلے میں پاکستانی عدالتوں نے آئین شکن ضیاءالحق کی باقیادت کا ستائیس سال تک کامل ساتھ دیا۔ حکمرانوں نے آصف علی زرداری کو پابند سلاسل رکھنے کے لیے قوانین تبدیل تک کیے۔ مثال کے طور پر 497 اے ضابطہ فوجداری میں قرار دیا گیا ہے کہ اگر سزائے موت یا عمر قید والا کیس عدالت دو سال میں فیصلہ نہ کر پائے تو ملزم کو ضمانت پر رہائی ملنا اس کا حق ہے۔ اسی طرح بقیہ تمام مقدمات میں ایک سال بعد ضمانت حق کے طور پر دی جائے گی۔ مگر آصف علی زرداری کے لیے اس شق کو ختم کیا گیا اور عدالت سوئی رہی۔

آصف علی زرداری کی قید کے دوران کئی حکومتیں بدلیں، کئی وزرائے اعظم آئے اور گئے، کئی چیف جسٹس انصاف کی مسند پر پدھارے اور "عدل” بانٹتے ہوئے چلے گئے، لیکن زرداری جیل سے باہر نہ نکل سکے۔ اُنھوں نے تقریباً دو درجن عیدیں اپنے خاندان اور پیاروں سے دور جیل کی تنہائیوں کے ساتھ گذاریں۔ وہ اپنے بچوں کا بچپن نہ دیکھ سکے، قید کے دوران ان کی والدہ سمیت کئی قریبی رشتہ دار وفات پا گئے، لیکن حکومت اور عدلیہ نے انہیں ہردفعہ پیرول پر عبوری رہائی کا حق تک دینے سے انکار کر دیا۔ اسیر زرداری پر دورانِ قید بد ترین غیر قانونی جسمانی تشدد بجائے خود ایک الگ داستان ہے۔

آخری مقدمے (اثاثہ جات ریفرنس) میں باعزت بری ہونے کے بعد آصف علی زرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا:

"جیل میں میری گردن اور زبان بھی کاٹی گئی، شدید تشدد کی وجہ سے میری حالت نازک ہو گئی، سب جانتے ہیں کہ مجھے کن حالات میں آغا خان اسپتال منتقل کیا گیا۔ جب اسپتال منتقل کیا گیا تو پولیس نے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی، عدالت میں ثابت ہوا کہ یہ خودکُشی نہیں، تشدد ہے۔

2002ء میں جب تمام کیسز میں میری ضمانت ہوئی اور میں جیل سے اپنا سامان لے کر باہر آنے لگا تو جیل سپرٹنڈنٹ نے مجھے کہا "جناب اپنا سامان یہیں رہنے دیں کیوںکہ یہ آپ کو پکڑ کر دوبارہ یہیں لائیں گے”۔ اور بالکل ویسے ہی ہوا۔ قید سے نکلنے سے قبل ہی مجھ پر ایک سیکنڈ ہینڈ بی ایم ڈبلیو کار پر کسٹم ڈیوٹی کم ادا کرنے کا کیس بنا کر گرفتار کر کے عدالت کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ میں نے جج صاحب سے کہا کہ "اول تو یہ گاڑی میری نہیں ہے اور نہ ہی میرے نام پر منگوائی گئی۔ لیکن اگر فرض کیا کہ یہ گاڑی میری ہی ہے تو تب بھی ملک کا قانون یہ کہتا ہے کہ آپ ایسی گاڑی ضبط کر لیں”، جس کے جواب میں جج صاحب نے کہا "ہمیں گاڑی نہیں بلکہ آپ کو ضبط کرنے کے احکامات ہیں”۔ یوں مجھے نیب کے حوالے کر دیا گیا۔ اس طرح اٹک میں مزید میرا دو سال ٹرائل ہوا۔

اگر میرے خلاف تمام جھوٹے کیسز کو سچ بھی مان لیا جائے تو سات سال کی سزا بنتی ہے مگر میں نے چوبیس سال قید کاٹی ہے (جیل کا دن بارہ گھنٹے کا ہوتا ہے چنانچہ چوبیس سال عملاً بارہ سال بنتے ہیں تھے۔ مزید برآں، عدالتیں پولیس حراست، حوالات اور مقدمے کے دوران گرفتاری کو بھی سزا سمجھتی ہیں)۔

مشرف دور میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں ہمارے خلاف کیسز کو پھر سے دوبارہ سیشن کورٹس میں منتقل کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں مجھے نہیں سنا گیا۔ سیشن کورٹس میں کیسز جانے کے بعد میں نے ایک سیشن جج صاحب کو اپنے خلاف جھوٹے کیسز کے ری ٹرائیل کے متعلق کہا تو جج صاحب نے جواب دیا کہ "ایڈے وڈے وڈے بندیاں نے تہاڈی نائیں سُنڑی، ہُنڑ اَسیں ماڑے بندے تہاڈی کی سُنڑاں گے؟” (جب سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے جج صاحبان نے آپ کو نہیں سُنا، تو ہم سیشن کورٹس کے جج کیا سُنیں گے؟)۔ تو ایسا ایسا میرے ساتھ مذاق ہوا اور ان تاریخی مذاقوں اور سازشوں کے گواہ آج بھی موجود ہیں۔ ہم پر تمام مقدمات سیاسی نوعیت کے بنائے گئے، ایسے لوگوں کو گواہ بنایا گیا، جنھیں میں جانتا پہچانتا تک نہیں۔ گواہوں سے جھوٹی گواہیاں دلوانے کے لیے پھانسی کی سزائیں تک سُنائیں گئیں۔ اب میاں نواز شریف قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے خلاف کیسز خود نہیں بنائے بلکہ آئی ایس آئی اور فوج نے پریشر ڈال کر بنوائے تھے۔ وہ اقرار کرتے ہیں کہ ہر ریفرنس جھوٹا ہے۔

میرا طریقہ ہے کہ میں کبھی عدلیہ سے لڑتا نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ بھاگتا رہتا ہوں، جب تک وہ تھک نہ جائیں۔ مُک مُکا کہہ دینا بہت آسان ہے، مگر ہر کیس کی ایک طویل داستان ہے۔ ہر مقدے میں آٹھ آٹھ پراسیکیوٹر ہوتے تھے اور مجھے ہر مقدمے میں چار سو سے پانچ سو تک پیشیاں بھگتنی پڑیں۔

میں نے اپنے پانچ سالہ دور میں کسی ایک شخص کے خلاف بھی انتقامی کارروائی نہیں کی۔ ہماری جنگ جمہوری ہے کبھی ذاتی ایشو نہیں رہا۔ اپنے دورِ صدارت میں اپنے خلاف مقدمے بنانے والوں کو ایوانِ صدر بلا کر کھانا کھلایا۔ تمام جُھوٹے مقدمات میں بری ہونے کے بعد کسی سے انتقام لینے کی بجائے میں اپنا معاملہ تاریخ پر چھوڑتا ہوں۔”

آصف علی زرداری کے تمام مقدمات میں باعزت بری ہونے کے بعد آج بھی اُن کے مخالفین انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ انھیں کرپٹ کہتے ہیں۔ یہاں ہمیں پنجابی زبان کا محاورہ یاد آ رہا ہے کہ "من حرامی تے حُجتاں ہزار”۔ اگلی قسط آخری قسط ہو گی، جس میں ہم سوئس کیسز سے متعلق ہزار حُجتوں والوں کا جواب دیں گے۔ (جاری ہے۔)

پچھلی قسط ۔۔۔ اگلی قسط

یہ گیارہ قسطوں پر مشتمل آرٹیکل کی دسویں قسط ہے۔  پہلی، دوسری، تیسری، چوتھی،
پانچویں، چھٹی، ساتویں، آٹھویں، نویں اور گیارہویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں۔


بشکریہ: اردو الرٹ

logo-new

 

 

 

Advertisements

9 thoughts on “"کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (10)

  1. پنگ بیک: "کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (9) | سوچ بورڈ

  2. پنگ بیک: "کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (1) | سوچ بورڈ

  3. پنگ بیک: "کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (2) | سوچ بورڈ

  4. پنگ بیک: "کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی(3) | سوچ بورڈ

  5. پنگ بیک: "کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (4) | سوچ بورڈ

  6. پنگ بیک: "کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (5) | سوچ بورڈ

  7. پنگ بیک: "کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (6) | سوچ بورڈ

  8. پنگ بیک: "کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (7) | سوچ بورڈ

  9. پنگ بیک: "کرپٹ زرداری” اور صادق و امین فرشتوں کی اصل کہانی (8) | سوچ بورڈ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s